کیا حضرت امام مہدی کے ظہور سے پہلے خلافت قائم ہوگی؟

شیخ حسن التہامی حفظہ اللہ کا امام مہدی سے پہلے خلافت کے قیام کے بارے میں علامہ البانی کی تردید ترجمہ ﷽ امام مہدی سے پہلے خلافت کے قائم ہونے کے بارے میں علامہ البانی کی تردید رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تملأ الأرضُ ظلما و جورا، زمین ظلم اور گمراہی سے بھر دی جائے گی۔ تو مہدی نکلیں گے اور اسے عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ جس طرح وہ ظلم اور گمراہی سے بھری ہوئی تھی۔ یہ حدیث اس پر دلیل ہے کہ امام مہدی ظلم اور گمراہی کے وقت نکلیں گے۔ منہج نبوت پر قائم خلافت کے وقت نہیں نکلیں گے۔ اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ خلافت علی منہاج النبوہ کے قیام کے بعد نکلیں گے۔ تو گویا وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ امام مہدی ظلم و جور کے خاتمے کے لئے نہیں آئیں گے۔ اور یہ بات نصوص کے مخالف ہے۔ کیونکہ امام مہدی کا خروج اس وقت ہوگا جب امت اختلاف کا شکار ہوگی اور ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہوگی۔ اور عربوں کے درمیان تلوار چل رہی ہوگی۔ اور آپ کا خروج عظیم فتنوں کے وقت ہوگا، جب باہم لڑائی ہوگی، نفسِ زکیہ قتل ہوجائیں گے۔ وغیرہ اور حقیقت یہ ہے کہ علامہ البانی اس مسئلے میں خطا کر گئے ہیں۔ اور صحیح بات یہ ہے کہ خلافت قائم کرنے والے امام مہدی ہی ہوں گے۔ یعنی وہ خلافت جو منہج نبوت پر قائم ہو۔ مزید یہ کہ وہ فوج جسے زمین میں دھنسایا جائے گا، جو مہدی کی جانب بڑھ رہی ہوگی، اور اسے بیدا میں زمین میں دھنسایا جائے گا، تو یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے؛ ہم کہتے ہیں؛ کہ جب خلافت علی منہاج النبوت قائم ہے،تو وہ اس فوج سے امام مہدی کا دفاع کیوں نہیں کر رہی ہوگی جو امام مہدی سے لڑنے آرہی ہوگی؟ یہ اس کی دلیل ہے کہ ظلم اور گمراہی ہوگی نہ کہ خلافت علی منہاج النبوت۔ بلکہ حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے (جس کا مفہوم ہے) کہ ؛ اس امت میں نبوت قائم ہوگی جب تک اللہ چاہے، پھر جب اللہ چاہے گا تو اسے اٹھا لے گا، پھر خلافت علی منہاج النبوت ہوگی، اس کے بعد کاٹ کھانے والی بادشاہت ہوگی۔ پھر الملک الجبری یعنی جبر والا نظام ہوگا۔ اور اس کے بعد پھر خلافت علی منہاج النبوت ہوگی۔ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ہی سے ایک حدیث منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس امت کے لئے جابر بادشاہوں سے ہلاکت ہے، کہ اطاعت گزار بندوں کو کس طرح قتل کرتے ہیں اور ڈراتے ہیں۔ سوائے اس کے جو ان کے سامنے اپنی اطاعت ظاہر کرے۔ پس متقی مومن تو ان سے اپنی زبان کے ذریعے بنا کر رکھتا ہے۔ اور اپنے دل کے ذریعے ان سے دور بھاگتا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوجائے کہ اسلام کو عزت دے تو ہر جبار اور سرکش کی گردن مروڑ دے گا۔ اور اسے اپنے ارادے پورے کرنے پر قدرت ہے۔ کہ اس امت کے فساد کے بعد اس کی اصلاح کرے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے حذیفہ! اگر اس دنیا کا صرف ایک ہی دن باقی رہ جائے، تو اللہ تعالیٰ اس کو اتنا لمبا کر دے گا کہ اس میں میرے اہلِ بیت میں سے ایک شخص نکلے گا، جن کے ہاتھ پر عظیم جنگیں برپا ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ یہ حدیث بھی اس پر دلیل ہے کہ تب ظلم اور گمراہی ہوگی ، قتل اور خونریزی ہوگی، جابروں کی گردن مروڑ دی جائے گی۔ اس کے بعد امام مہدی نکلیں گے اور خلافت علی منہاج النبوت قائم کریں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

کیا شیخ اسامہ ہی الحارث بن حرّاث ہیں؟